19 اکتوبر 2017 - 15:24
ملت تشیع کے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے علامہ حسن ظفر نقوی نے ہڑتال شروع کر دی

ملت تشیع کے لاپتا افراد کی عدم بازیابی اور حکومتی بے حسی کے خلاف ممتاز بزرگ شیعہ عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے ہڑتال شروع کر دی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلام آباد( )ملت تشیع کے لاپتا افراد کی عدم بازیابی اور حکومتی بے حسی کے خلاف ممتاز بزرگ شیعہ عالم دین علام حسن ظفر نقوی نے ہرتال شروع کر دی ہے۔ انہوں نے گزشتہ دو ہفتوں سے بغدادی تھانہ لیاری میں احتجاجاََ گرفتاری دے رکھی ہے ۔تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ۔ملکی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر ہمارے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے آئے دن رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں لیکن حکومت سمیت دیگر اعلی حکام دانستہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج شریف خاندان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تو بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے نعرے لگنے شروع ہو گئے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو کئی سالوں سے جبری لاپتا کر رکھا ہے اور استفسار کرنے پر اہل خانہ کو دھمکیاں دی جاتیں ہیں۔۔یہاں حکمرانوں کو انسانی حقوق کا خیال نہیں آتا۔ہمارے جائز مطالبات پر کوئی نہیں دھر رہا جبکہ کرپٹ حکمرانوں کے خاندان کے دفاع کے لیے پوری حکومتی مشنری نے اپنی نیند یں حرام کی ہوئی ہیں۔انہیں بچانے کے لیے ملکی قوانین میں رد و بدل کیا جا رہا ہے اور ملت تشیع کے معاملے میں قوانین اور آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔لاپتا افراد کے خاندانوں کا درد سننے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ۔ہمیں بتایا جائے کہ ملت تشیع کے گمشدہ نوجوان زندہ بھی ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے۔اگر ان پر کوئی الزام عائد ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ہم پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں مگر ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جارہا۔ہماری اس تحریک میں تمام شیعہ تنظیمں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز سے بھوک ہرتال شروع کر دی ہے اور اگر ہماری ملت کے نوجوانوں کو بازیاب نہ کیا گیا تو تادم مرگ یہ بھوک ہرتال جاری رہے گی۔آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان ملت تشیع کے خلاف ہونے والے ظلم کو نوٹس لیں ۔ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے مطالبے کو حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنے کے بعد ہمارے پاس انصاف کی فراہمی کے لیے امید کی کرن آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان ہی ہیں۔انہوں نے کوئٹہ اور بنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر بھی سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔علامہ حسن ظفر نقوی کی بھوک ہرتال پر مختلف شیعہ جماعتوں کے رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزرگ رہنما شوگر اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں ۔اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہوا تو حکمرانوں سمیت دیگر مقتدر شخصیات اس کی ذمہ دار ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲